طالبان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نمائندگی کا مطالبہ

طالبان نے کہا ہے کہ انھیں رواں ہفتے نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کا موقع دیا جائے۔

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے پیر کو ایک خط میں یہ درخواست کی۔ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی اس درخواست پر فیصلہ کرے گی۔

طالبان نے دوحہ میں مقیم اپنے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کے لیے افغانستان کا سفیر نامزد کیا ہے۔

گذشتہ ماہ افغانستان پر قبضے کے بعد نظام سنبھالنے والے طالبان کا کہنا ہے کہ معزول حکومت کے ایلچی اب ملک کے نمائندہ نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں حصہ لینے کی طالبان حکومت کی درخواست پر ایک کمیٹی غور کر رہی ہے جس کے نو ارکان میں امریکہ، چین اور روس شامل ہیں۔ تاہم آئندہ پیر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے اختتام سے قبل تک اس کمیٹی کے ارکان کی ملاقات کا امکان نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق اس وقت تک سابق افغان حکومت کے ایلچی غلام اسحق زئی ہی اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ طالبان کے گذشتہ دور اقتدار کے دوران 1996 سے 2001 کے درمیان معذول حکومت کے سفیر ہی اقوام متحدہ میں ملک کے نمائندے کی حیثیت سے برقرار رہے تھے۔

امکان ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اجلاس کے آخری دن تقریر کریں گے۔ تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا وفد اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتا۔ طالبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کئی ممالک اب سابق صدر اشرف غنی کو لیڈر تسلیم نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ سابق افغان صدر اشرف غنی 15 اگست کو دارالحکومت کابل پر طالبان عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد اچانک افغانستان سے چلے گئے تھے۔ انھوں نے متحدہ عرب امارات میں پناہ لے رکھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *