شیخ روحیل اصغر کی نرالی منطق، ’’گالی‘‘ دینا پنجاب کا کلچر قرار دے دیا

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے نرالی منطق پیش کرتے ہوئے گالی دینے کو پنجاب کا کلچر قرار دے دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے باہر ایک صحافی نے شیخ روحیل اصغر سے سوال کیا کہ کیا گالی دینا اچھی بات ہے؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تو پنجاب کا کلچر ہے۔

بعد ازاں دنیا نیوز کے پروگرام’’نقطہ نظر‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ روحیل اصغر اپنے الفاظ پر بضد رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل جو کچھ ہوا میں تو اس کا حصہ نہیں تھا، ریسیکو کر رہا تھا، جو لوگ مجھے جانتے ہیں انہیں پتا ہے جھوٹ نہیں بولتا۔

شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی دل آزاری کرتا ہوں تو معذرت کر لیتا ہوں لیکن کل کے واقعے سے میرا تعلق ہی نہیں ہے۔

انہوں نے معذرت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں جس معاشرے میں رہتا ہوں، وہی کچھ کہہ دیا۔ جب کسی شخص کو اس نہج تک لائیں گے تو پھر وہ کیا کہے گا۔ جب کاپیاں اچھالی جا رہی تھی، تب ایوان میں موجود ہی نہیں تھا۔

تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ معاشرے میں برداشت کا فقدان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سپیکر کام کام ایوان کو لے کر چلنا ہے۔ اگر میں نے کل کوئی غلطی کی تھی مجھے بلا کر سنتے۔ مجھے تو سپیکرصاحب نے بلایا ہی نہیں، میں نے کسی کو گالی نہیں دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *