مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے راتکو ملادیچ المعروف’قصابِ بوسنیا‘ کی عمر قید کی سزا برقرار

Play Video

دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی اپیل کورٹ نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے سابق سرب جنرل راتکو ملادیچ المعروف ’قصابِ بوسنیا ‘ کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

22 نومبر 2017 کو دی ہیگ میں سابق ریاست یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے انٹرنیشنل کرمنل ٹریبونل میں ہونے والی سماعت میں راتکو ملادیچ کو جنگ کے دوران نسل کشی اور دیگر مظالم کے 11 میں سے 10 الزامات پر مجرم ٹھہرایا گیا اور انہیں عمر قید کی سزا سنادی گئی تھی جس کے خلاف ملادیچ نے اپیل کی تھی۔

اپیل کی سماعت یو این انٹرنیشنل ریزیڈوئل مکینزم فار کرمنل ٹریبونلز کے پانچ رکنی بنچ نے کی اور اپیل کو مکمل طور پر مستر دکرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ملادیچ سزا کو کالعدم کرنے کیلئے اپنی بے گناہی کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔

ملادیچ اس فیصلے کیخلاف اب کہیں اپیل نہیں کرسکیں گے اور انہیں عمر قید کی سزا کاٹنی ہوگی البتہ یہ واضح نہیں کہ وہ اپنی سزا کہاں کاٹیں گے۔ دوران سماعت ملادیچ عدالت میں موجود تھے۔

خیال رہے کہ 1992 سے 1995 تک جاری جنگِ بوسنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس واقعے کے 26 برس بعد ملادیچ کی سزا کیخلاف اپیل خارج ہوئی اور اب اس معاملے کے تمام مرکزی کردار سزا پاچکے ہیں اور اب کوئی کیس عدالت میں موجود نہیں رہا۔

1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا جنگ کے دوران نسل کشی اور دیگر جرائم پر ملادیچ کے خلاف 2012 میں دی ہیگ میں عالمی فوجداری ٹریبونل برائے یوگوسلاویہ میں مقدمہ شروع ہوا تھا۔

جنگ ختم ہونے کے بعد ملادیچ روپوش ہوگیا تھا اور اسے سربیا میں پناہ مل گئی تھی تاہم 16 سال تک مفرور رہنے کے بعد 2011 میں ملادیچ کو شمالی سربیا میں اس کے کزن کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔

بوسنیا کی جنگ

بوسنیا کی جنگ 1992 سے 1995 تک بوسنیا و ہرزیگووینا میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگووینا کی فوج اور خودساختہ بوسنیائی سرب اور بوسنیائی کروش کی فورسز کے درمیان لڑائی ہوئی۔

ملادیچ کو بوسنیا کا قصائی اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ اس نے 1995 میں جنگ کے اختتام پر ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنہوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیکا میں قتل عام کیا جس میں تقریباً 8000 بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران بھی 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔

اس واقعے کو جنگ عظیم دوم کے بعد یورپی سرزمین پر بدترین نسل کشی قرار دیا جاتا ہے اور یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین نے سرب فوجیوں سے بچنے کے لیے سربرینیکا نقل مکانی کرلی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *