فلسطین پر پاکستان کا موقف قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کےطاہر اشرفی موقع پر ہی دے دیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں متحدہ علما بورڈ پنجاب کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

علامہ حافظ محمد طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل صرف پاکستان پر چیخ رہا ہے،پاکستان فلسطین کے ساتھ تب تک کھڑا ہے جب تک آزاد فلسطین ریاست کی بنیاد نہیں رکھ دی جاتی اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت نہیں بنا دیا جاتا،گزشتہ سات ماہ میں مذہبی توہین کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ فوج اگردہشتگردی کے خلاف جنگ نا لڑتی تو حالات مصر اور شام جیسے ہوتے ،آج بھی فوج دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے، جو لوگ آج آواز اٹھا رہے ہیں ان کی جانوں کو سیکورٹی ایجنسیوں نے محفوظ بنایا۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیر داخلہ کویت گئے ہیں، اعراق میں تمام بلاد اسلامیہ پاکستان کے لیے کھل گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مصر، شام ،کویت اور دیگر ممالک کے سربراہان نے وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی کو بھی خطبات لکھنے کا نہیں کہا، صدر پاکستان نے اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے صرف تجویز دی کہ عوامی مسائل پر بات کی جائے کسی پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر عقیدہ ختم نبوت کو مانتے ہیں ،جس فریق نے الزام لگایا انہیں معافی مانگ لینی چاہیے ،متحدہ علما بورڈ دونوں کی بات سن کر فیصلہ کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سمیت ہر کسی کو جلسے کرنے کا حق ہے، تین سالوں میں جو حکومت نہیں گرا سکے وہ اب بھی کوشش کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماحولیات کے اعتبار سے دنیا بھر کی میزبانی کر رہا ہے، حکومت کے بلین ٹری ویژن کو پورا کرنے کے لیے علما وخطبا لوگوں کو درخت لگانے کی ترغیب دیں۔انہوں نے کہا کہ وقف املاک ایکٹ پر تمام لوگوں کے تحفظات ہیں جن پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے ، جلد تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں کو پکڑنا چاہیے ،مظلوم کے ساتھ ہیں لیکن کسی کا ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے، بغیر تحقیق کے ملک کی سلامتی کے ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا بلاجواز ہے اور اسلام آباد میں جو آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں وہی آواز اسرائیل اٹھا رہا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ حافظ محمد طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر جو پاکستان کا موقف رہا اس کو تمام پاکستانیوں نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا، فلسطین پر پاکستان کا موقف قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے موقع پر ہی دے دیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں متحدہ علما بورڈ پنجاب کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

علامہ حافظ محمد طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل صرف پاکستان پر چیخ رہا ہے،پاکستان فلسطین کے ساتھ تب تک کھڑا ہے جب تک آزاد فلسطین ریاست کی بنیاد نہیں رکھ دی جاتی اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت نہیں بنا دیا جاتا،گزشتہ سات ماہ میں مذہبی توہین کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ فوج اگردہشتگردی کے خلاف جنگ نا لڑتی تو حالات مصر اور شام جیسے ہوتے ،آج بھی فوج دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہے، جو لوگ آج آواز اٹھا رہے ہیں ان کی جانوں کو سیکورٹی ایجنسیوں نے محفوظ بنایا۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیر داخلہ کویت گئے ہیں، اعراق میں تمام بلاد اسلامیہ پاکستان کے لیے کھل گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مصر، شام ،کویت اور دیگر ممالک کے سربراہان نے وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی کو بھی خطبات لکھنے کا نہیں کہا، صدر پاکستان نے اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے صرف تجویز دی کہ عوامی مسائل پر بات کی جائے کسی پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر عقیدہ ختم نبوت کو مانتے ہیں ،جس فریق نے الزام لگایا انہیں معافی مانگ لینی چاہیے ،متحدہ علما بورڈ دونوں کی بات سن کر فیصلہ کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سمیت ہر کسی کو جلسے کرنے کا حق ہے، تین سالوں میں جو حکومت نہیں گرا سکے وہ اب بھی کوشش کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماحولیات کے اعتبار سے دنیا بھر کی میزبانی کر رہا ہے، حکومت کے بلین ٹری ویژن کو پورا کرنے کے لیے علما وخطبا لوگوں کو درخت لگانے کی ترغیب دیں۔انہوں نے کہا کہ وقف املاک ایکٹ پر تمام لوگوں کے تحفظات ہیں جن پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے ، جلد تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں کو پکڑنا چاہیے ،مظلوم کے ساتھ ہیں لیکن کسی کا ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے، بغیر تحقیق کے ملک کی سلامتی کے ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا بلاجواز ہے اور اسلام آباد میں جو آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں وہی آواز اسرائیل اٹھا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *