شاہ محمود پر ’یہود مخالف‘ بیان دینے کے الزام پر سوشل میڈیا صارفین کی رائے منقسم

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کی اور اسرائیل فلسطین تنازع کے ’منصفانہ حل‘ کی بات کی تاہم اس کے بعد امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو اسی حوالے سے دیے گیا اُن کا ایک انٹرویو تنازع کا باعث بن گیا ہے اور اب پاکستانی وزیر خارجہ پر ’یہود مخالف‘ بیان دینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

جمعہ کے روز پاکستانی وزارت خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود کے انٹرویو کو کسی طور پر ’یہود مخالف‘ نہیں کہا جا سکتا۔

سی این این کے پروگرام ’امانپور‘ میں دیے گئے انٹرویو کے دوران پہلے ہی سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے اسرائیل کی ’ڈیپ پاکٹس‘ اور میڈیا میں ’اثر و رسوخ اور تعلقات‘ اور میڈیا کو ’کنٹرول‘ کرنے کی بات کی، جس پر سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا نے اس بیان کو ’یہود مخالف‘ قراد دیا۔

یہ مکالمہ کافی دیر جاری رہا اور شاہ محمود قریشی انٹرویو کے دوران یہود مخالف بیانیے کی حمایت کرنے کے الزام کی تردید کرتے رہے۔

شاہ محمود قریشی گذشتہ روز اسرائیل فلسطین تنازع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود تھے جس میں دونوں اطراف سے فوری سیزفائر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کے اس انٹرویو کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس بیان کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے خاصی گرما گرم بحث جاری ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار جہاں پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کی مذمت کر رہے ہیں وہیں کچھ افراد یہ بحث بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی نے کچھ ایسا تو نہیں کہا جو اس سے قبل معروف امریکی سکالر نوم چومسکی نہیں کہہ چکے ہیں۔ یہی وجہ کہ اس وقت نوم چومسکی کا نام بھی پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اکثر صارفین سی این این کی اینکر بیانا گولوڈریگا کے انٹرویو کرنے کے انداز اور سوالات پر بھی تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ بطور وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے یہ بات کر کے فلسطین کے مسئلے سے توجہ ہٹا دی اور اگر وہ فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں ہی بات کرتے تو اچھا رہتا۔

سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ اس انٹرویو میں ایسا کیا کہا گیا تھا، جس کے بعد اس بات پر بھی روشنی ڈالی جائی گی کہ اس بیان کو یہود مخالف کیوں کہا جا رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی اور سی این این کی اینکر کا مکالمہ

سی این این کے پروگرام ’امانپور‘ میں دیے گئے انٹرویو کا آغاز شاہ محمود قریشی کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کے ایک کلپ سے ہوا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ’خطے اور دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے لیے فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل ناگزیر ہے اور امن قائم کرنے کی بھاری ذمہ داری اسرائیل کے سر ہے۔‘

تاہم جب ان سے پہلے ہی سوال میں یہ پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس سیز فائر سے متعلق کوئی خبر ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے یقین ہے کہ چیزیں تیزی سے بدل رہی ہیں اور رائے عامہ میں تبدیلی آ رہی ہے، اور دباؤ بڑھنے کے باعث سیز فائر ناگزیر ہے۔ اسرائیل میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے، وہ اپنے تعلقات کے باوجود یہ جنگ ہار رہا ہے۔‘

جب بیانا گولوڈریگا نے ان سے پوچھا کہ آپ کن تعلقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو پاکستانی وزیرِ خارجہ نے جواب دیا کہ ‘ڈیپ پاکٹس۔’

اینکر نے پوچھا: ’اس کا کیا مطلب ہے؟‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’وہ بہت بااثر لوگ ہیں، وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘اس پر بیانا نے کہا کہ ’میں اسے ایک یہود مخالف بیان کہوں گی۔‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے جواب دیا کہ ’ان کا بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے اور انھیں بہت زیادہ کوریج دی جاتی ہے اور اس سے ہوا یہ ہے کہ عام شہریوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز کی وجہ سے وہ لوگ بھی جاگ اٹھے ہیں جو عام طور پر خاموش رہتے ہیں۔‘

اس پر اینکر نے سوال کیا کہ کیا اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے حقوق کے بارے میں بات کرنے کی بجائے یہود مخالف بیانیے کو فروغ دینا ضروری ہے، جو اب دنیا بھر میں بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، آپ کو اس کی مذمت نہیں کرنی چاہیے؟

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میں کسی راکٹ حملے کی حمایت نہیں کر سکتا لیکن میں فضائی حملوں کا بھی ساتھ نہیں دوں گا۔ مگر جب آپ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھتے اور نسل کشی جیسے ہتھکنڈے اپناتے ہیں تو پھر ایک انتہا پسند گروہ کو جگہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔ اس کا دو ریاستی حل موجود ہے، اور اس کے لیے فوری سیز فائر ضروری ہے۔‘

اس پر اینکر نے ان سے پھر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’کیا اس میں یہود مخالف بیانیے کی مذمت کرنا بھی شامل ہے۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میں اس کا بالکل بھی کوئی جواز پیش نہیں کر رہا۔‘

جس پر بیانا نے ان سے ایک مرتبہ پھر پوچھا کہ ’آپ نے اس گفتگو کا آغاز ہی ایک یہود مخالف بیان سے کیا، معذرت کے ساتھ میں آپ سے بہت سارے موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہوں لیکن بطور صحافی مجھے یہ بات بُری لگی ہے کہ آپ نے کہا کہ اسرائیل کے میڈیا میں قریبی تعلقات ہیں۔‘

جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’دنیا کا اس بارے میں خیال تو یہی ہے اور اس خیال کو زائل کرنے کے لیے آپ متوازن کوریج بھی تو کر سکتے ہیں۔‘ یہاں مزید بحث کہ بعد یہ مکالمہ مکمل ہوا اور بات چیت میں اویغر مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کی جانب چلی گئی۔

اسرائیلیوں کی ’ڈیپ پاکٹس‘ اور میڈیا پر اثر و رسوخ یہود مخالف کیوں ہے؟

سوشل میڈیا پر اس وقت یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ کیا شاہ محمود قریشی کی جانب سے دیا گیا بیان واقعی یہود مخالف ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔

یہود مخالف بیانیے کی تاریخ ہٹلر کے نازی دور سے جڑی ہے اور اس طرح کے تبصرے بھی اس زمانے میں سامنے آتے تھے۔

واشنگٹن میں پاکستانی نژاد پالیسی تجزیہ کار اور پاڈکاسٹ پاکستانومی کے میزبان عزیر یونس نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’شاہ محمود قریشی کا یہود مخالف بیان قابلِ مذمت ہے اس حوالے سے کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔ فلسطین کے اصولی مؤقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ یہود مخالف سازشی نظریات کو فروغ دیں۔‘

تاہم جب ان کی اس ٹویٹ پر صارفین کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تو انھوں نے ایک تھریڈ میں اپنے مؤقف کی وضاحت کی اور اس کے تاریخی پہلو کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ کہنا کہ ان کی گہری جیبیں ہیں اور انھوں نے میڈیا کو خرید ہوا ہے‘ کو خاصی پرانی یہود مخالف گالی کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘ایسا نازی جرمنی میں بڑے پیمانے پر یہودیوں کے سیاسی اور ثقافتی انخلا کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا، اور متعدد کتابیں اس تاریخ کے بارے میں ہمیں بتاتی ہیں۔

عزیر یونس کا کہنا تھا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی مغربی ملک کے وزیر کا پاکستانیوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ’یہ خودکش بمباروں کو تربیت دیتے ہیں۔‘ یہ بیان اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کے مترادف ہو گا، یعنی اسلاموفوبیا کے زمرے میں آئے گا۔

اس حوالے سے معروف سکالر اور مصنف نوم چومسکی بھی پاکستان میں ٹرینڈ کر رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی متعدد مرتبہ اس حوالے سے بات کر چکے ہیں۔

اپنے کئی لیکچرز کے دوران چومسکی اسرائیل پر تنقید کر چکے ہیں اور ایک لیکچر میں تو وہ اسرائیل کو امریکہ کا ‘ملٹری افسر’ قرار دے چکے ہیں اور امریکی میڈیا پر ‘امریکہ کی اسرائیل پالیسی کی حمایت کرنے’ اور اس حوالے سے ‘مؤثر سوالات نہ پوچھنے’ پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔

تاہم ان کی جانب سے اسرائیل پر میڈیا کو ’کنٹرول‘ کرنے یا اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا۔

اس حوالے سے ایک مخالف بیانیہ بھی موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے بارے میں کوئی جامع ثبوت موجود نہیں ہے اور مغربی میڈیا کا اسرائیل کی جانب مبینہ جھکاؤ متعدد دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *