میا خلیفہ کی ٹک ٹاک ویڈیوز آخر پاکستان میں کیوں نظر نہیں آ رہیں؟

لبنانی نژاد سابقہ پورن سٹار میا خلیفہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کے بعد اب وہ اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا کریں گی۔

انھوں نے گذشتہ رات کی گئی ایک ٹویٹ میں الزام عائد کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ ’پاکستان کا شکریہ جس نے میرے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پابندی عائد کی ہے۔ اب سے میں اپنے تمام ایسے پاکستانی مداحوں کے لیے اپنی تمام ٹک ٹاک ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کروں گی جو اس فاشزم کو چکمہ دینا چاہتے ہیں۔‘

اُنھوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔

پاکستان میں میا خلیفہ کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ان کی کوئی ویڈیو نظر نہیں آتی تاہم کسی اور ملک کے آئی پی ایڈریس سے اسی اکاؤنٹ پر ویڈیوز نظر آنے لگتی ہیں۔

اس کے علاوہ جب میا خلیفہ کا نام پاکستان سے ٹک ٹاک پر سرچ کیا جائے تب بھی کوئی سرچ رزلٹس سامنے نہیں آتے۔

تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس بارے میں بتایا نہیں گیا ہے کہ آیا حکومت نے ٹک ٹاک سے یہ پابندی لگانے کی درخواست کی تھی، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تبصرے کے لیے بی بی سی کے سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔

دوسری جانب ٹک ٹاک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ‘قابلِ اطلاق قوانین اور اپنے پلیٹ فارم کے اصولوں کے تحت ریگولیٹرز کی جانب سے مواد کو ہٹانے یا اس تک رسائی محدود کرنے کی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں۔’

بی بی سی نے اُن سے واضح طور پر یہ سوال کیا تھا کہ کیا پاکستانی حکام نے اس پابندی کی درخواست کی ہے؟ تاہم اُنھوں نے اپنی ای میل میں واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ پاکستانی حکومت یا اس کے کسی ذیلی ادارے کی جانب سے ایسی کوئی درخواست کی گئی تھی۔

پاکستان میں ٹک ٹاک کے حوالے سے تنازعات

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ٹک ٹاک پر شائع ہونے والا مواد خاصی بحث کا باعث بنا رہا ہے اور اس پر دو مرتبہ پابندی عائد کی جا چکی ہے تاہم بعد ازاں حکام نے اسے کچھ شرائط پر بحال کر دیا تھا۔

اپریل 2021 میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی اس شرط پر ہٹائی گئی تھی کہ اس پر غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کی جائیں گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھوں نے اس ایپ سے بڑی تعداد میں غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا ہے اوراس کے علاوہ وہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو حکم جاری کیا تھا پاکستان میں ’فحش، غیر اخلاقی، غیر مہذب اور عریاں مواد تک رسائی فوراً بند کی جائے۔‘

تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا میا خلیفہ کے اکاؤنٹ تک پاکستان سے رسائی پاکستانی حکام کی درخواست پر کی گئی ہے یا ایسا ٹک ٹاک کے اپنے ضوابط کے تحت کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *