’لڑکی کی حیثیت سے مطمئن زندگی نہیں گزار رہی، جنس تبدیل کروانے کی اجازت دی جائے‘: پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

پیٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار خاتون کی حیثیت سے مطمئن زندگی نہیں گزار رہیں اور وہ جنس تبدیل کروانا چاہتی ہیں کیونکہ وہ ایک مرد کی طرح اپنے خاندان کے لیے کام نہیں کرسکتی ہیں (فائل فوٹو)

پشاور ہائی کورٹ نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو پیش کی گئی اس درخواست کا جائزہ لیں جس میں ایک کم عمر خاتون نے لکھا تھا کہ وہ جینڈر ڈسفوریا نامی مرض میں مبتلا ہیں اور انھیں جنس تبدیل کرنے کے آپریشن کروانے کی اجازت دی جائے۔

درخواست کی سماعت جسٹس قیصر رشید اور جسٹس نعیم رشید کی عدالت میں ہوئی۔

درخواست گزار خاتون کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل کے مطابق ان کی دائر کردہ پیٹشن پر عدالت نے حیات آباد میڈیکل کمپلکیس کی انتظامیہ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ تین ماہ کے اندر عدالت میں مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں:

  • خاتون کی جنسی حالت کے بارے میں رپورٹ پیش کریں، کیا یہ ممکن ہے کہ خاتون کی جنس آپریشن کے ذریعے سے تبدیل کی جا سکتی ہے؟
  • خاتون کا ممکنہ علاج کیا ہے؟
  • ممکنہ آپریشن کے حوالے سے خاتون کو لاحق خطرات اور اس کے بارے میں ماہرانہ رائے
  • ہسپتال کس طرح اس معاملے میں خاتون کی مدد کرسکتا ہے؟

محب اللہ کاکا خیل ایڈووکیٹ کے مطابق ہسپتال کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کے بعد عدالت اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *