سندھ ہائی کورٹ نے 10 گرام تک چرس کو قانونی قرار دینے کی استدعا مسترد کر دی

سندھ ہائی کورٹ نے 10 گرام تک چرس رکھنے اور پینے کی اجازت دینے سے متعلق ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار وکیل پر اظہار برہمی کیا ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟‘

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس ارشد خان پر مشتمل ڈویژن بینچ میں جمعہ کے دن سینیئر وکیل غلام اصغر سائیں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت 10 گرام تک مقدار کی چرس رکھنے کو قانونی قرار دے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ یہ آپ کیسی درخواست لے کر آئے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں سب لوگ چرس پینا شروع کر دیں؟

جس پر درخواست گزار وکیل نے کہا وہ غریب آدمی ہیں اور مفاد عامہ کی درخواست لے کر عدالت کے سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بہت سے شریف لوگ چرس پیتے ہیں جنھیں ایسا کرنے پر پولیس تنگ کرتی ہے۔

انھوں نے اپنے دلائل میں مثال دی کہ البانیہ، آرجینٹینا سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں مخصوص مقدار میں چرس رکھنا اور پینا غیر قانونی نہیں ہے بلکہ اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔

اس دلائل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ ’اگر آپ کو چرس پینا ہے تو اُن ممالک میں چلیں جائیں، یہاں اجازت نہیں ہے۔‘

عدالت نے یہ سوال بھی کیا کہ اس نوعیت کی درخواستیں عدالت میں کیوں لائی جاتی ہیں۔

درخواست میں وزارت قانون، وفاق اور دیگر صوبائی اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔

مدعی نے عدالت کو بتایا کہ اگر اجازت مل جائے تو اس سے ملک کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے انھیں کہا کہ ’ملک کو ایسی آمدن نہیں چاہیے، آمدنی بڑھانے کے اور بھی جائز طریقے ہوتے ہیں۔‘

ان دلائل کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کو نمٹا دیا۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ غلام اصغر نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چرس ایسی چیز ہے جس کی مدد سے بیماریوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔

’چرس کئی لوگ استعمال کرتے ہیں، کئی مزاروں پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ کاروبار قانونی نہ ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں کس کس کو پیسے ملتے ہیں۔ اگر اسے قانونی قرار دیا جائے تو حکومت کو آمدن ملے گی اور دس گرام اگر کسی شریف شہری کی جیب میں ہے تو پولیس والے بھی اسے تنگ نہیں کریں گے اور شہری سرعام توہین سے بچ جائیں گے۔‘

اصغر سائیں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عدالت کو حال ہی میں عمران خان حکومت کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں بھنگ کے سائنسی استعمال کی اجازت دی گئی ہے اور محدود پیمانے پر اس کی کاشت کی اجازت بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چرس بھی بھنگ ہی کی ایک قسم ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اس ذریعے سے اپنی آمدن میں اضافہ کر سکتی ہے۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ تین ماہ تحقیق کے بعد انھوں نے عدالت میں یہ درخواست دائر کی تھی، لیکن انھیں سُنا ہی نہیں گیا۔ ’جج صاحب نے کہا کہ میں (یہ درخواست دائر کرنے پر) ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دوں گا، میں نے کہا کہ میں غریب آدمی ہوں، جرمانہ ادا نہیں کر سکتا۔ آپ مجھے پھانسی کی سزا دے دیں میں اور کیا کہہ سکتا تھا۔‘

یاد رہے کہ رواں برس جرمن کمپنی اے بی سی ڈی کی ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی دنیا میں سب سے زیادہ چرس استعمال کرنے والے شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کا شہر نیو یارک پہلے نمبر پر ہے۔

جرمن کمپنی اے بی سی ڈی کی تحقیق کے مطابق نیو یارک میں سالانہ 77 ٹن سے زائد چرس استعمال کی جاتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر کراچی آتا ہے جہاں 42 ٹن چرس پھونکی جاتی ہے۔ انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں 38 ٹن سے زائد چرس پی جاتی ہے۔

’اے بی سی ڈی‘ دنیا میں چرس کو قانونی حیثیت دلانے سے حوالے سے جاری ایک مہم کا حصہ ہے۔

کینابس درحقیقت پودوں کی ایک قسم ہے جسے دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اس کے پتوں کو جلا کر پھونکا جاتا ہے جبکہ برِصغیر میں اس کے پتوں سے چرس بنا کر استعمال کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *