سشانت سنگھ کی موت کی تحقیقات سے متعلق ہر پہلو سے تحقیاقت کر رہے ہیں

بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات سے متعلق سی بی آئی نے کہا ہے کہ وہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیاقت کر رہے ہیں۔

سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی تفتیش انڈیا کے وفاقی تفتیشی ادارہ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن یعنی سی بی آئی کر رہی ہے۔

اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تفتیش کے بارے میں پیر کو سی بی آئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاملے کی پیشہ آورانہ طریقے سے تفتیش جاری ہے اور اس میں کسی بھی اہم پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔

سی بی آئی نے کہا ہے کہ ‘تفتیش میں کسی بھی زاویے کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے’۔

کچھ روز قبل اداکار کے خاندان کے وکیل وکاس سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اداکار کا گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا‘ اور الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی تحقیقات میں نرمی سے کام لے رہی ہے۔

پیر کو سی بی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان کو ان الزامات کے رد عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سُشانت سنگھ کے خاندان کے وکیل وکاس سنگھ نے کیا کہا تھا؟

وکاس سنگھ نے 25 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ‘سی بی آئی سشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کی تفتیش میں انہیں خود کشی کے لیے ورغلانے کے معاملے کو قتل کے معاملے میں تبدیل کرنے میں وقت لگا رہی ہے، میں اس سے مایوس ہوں۔ ایمس ہسپتال کی میڈیکل ٹیم کے ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے انھیں جو تصویر بھیجی تھی وہ 200 فیصد اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ موت گلا دبانے سے ہوئی تھی، خودکشی نہیں تھی۔’

حالانکہ مقامی میڈیا کے مطابق ایمس کی فورینزک ٹیم کے سربراہ سدھیر گپتا نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘سی بی آئی کو ابھی تک کوئی نتائج نہیں سونپے گئے ہیں۔ حتمی میٹنگ ابھی ہونی ہے۔ صرف تصویر دیکھ کر کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ ہمارا مشورہ واضح ہوگا اور مکمل طور پر شواہد پر مبنی ہوگا۔’

اس معاملے کی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے منشیات کے استعمال کے معاملوں کی تفتیش نارکوٹکس کنٹرول بیورو یعنی این سی بی کر رہا ہے۔

اس دوران سُشانت کی سابقہ گرل فرینڈ اور اداکارہ ریا چکرورتی این سی بی کی حراست میں ہیں۔ انھیں 9 ستمبر کو 34 سالہ سُشانت سنگھ کے لیے منشیات کا انتظام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں جمعرات کو بالی وڈ ستاروں راکول پریت، شروتی مودی اور فیشن ڈیزائنر سیمیون کھمبٹا کو انسدادِ منشیات بیورو (این سی بی) کے سامنے طلب کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *