Saturday , 25 January 2020

’مائی لارڈ ایک ہی دفعہ 90 روز کا ریمانڈ دے دیں‘

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 11 روز کی توسیع کردی ہے۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو کے حکام کو ملزم کو دوبارہ دو جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمعے کے روز آصف علی زداری کو سخت سکیورٹی کے حصار میں احتساب عدالت میں لایا گیا۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے مزید 14 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تو ملزم آصف علی زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی ٹیم ہر مرتبہ 14 روز کے لیے ہی جسمانی ریمانڈ کیوں مانگتی ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب کی تفتیشی ٹیم جعلی اکاؤنٹس سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں اس لیے تفتیشی ٹیم کو ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

اس موقع پر آصف علی زرداری روسٹم پر آ گئے جس پر سردار مظفر عباسی دلائل دیتے ہوئے رک گئے کہ شاید سابق صدر کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

ملزم آصف علی زرداری نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’مائی لارڈ ایک ہی دفعہ 90روز کا ریمانڈ دے دیں‘۔

واضح رہے کہ قانون کے مطابق نیب کے حکام کسی بھی ملزم کو تفتیش کے سلسلے میں 90 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں اور احتساب عدالت ملزم کا ایک وقت میں 14 روز سے زیادہ دنوں کا جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی۔

نیب کے حکام نے جعلی اکاؤنٹس کے مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

آصف علی زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان کے موکل صرف اس لیے روسٹم پر آئے ہیں کیونکہ وہ یہ سننا چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں نیب کے حکام کیا لب کشائی کر رہے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سابق صدر شاید یہ سننا چاہتے ہیں کہ نیب کو اس مقدمے سے متعلق کون کون سی باتیں معلوم ہوچکی ہیں۔

احتساب عدالت کے جج کے جواب میں آصف علی زرداری کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نیب ان کے بارے میں کون کون سی باتیں گڑ رہا ہے۔

نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم اس مقدمے میں میرٹ پر تفتیش کر رہی ہے اور عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں ایک لفظ بھی اپنی طرف سے نہیں لکھا گیا۔

احستاب عدالت کے جج نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کے لیے نیب کی درخواست پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کیا اور پھر اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 11 روز کی توسیع کر دی۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے آصف علی زرداری کو 10 جون کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

ملزم آصف علی زرداری چونکہ رکن قومی اسمبلی بھی ہیں اس لیے سپیکر نے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر رکھے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے احتجاج کرنے پر قومی اسمبلی کے سپیکر کو سابق صدر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *