بھارت کو رافیل طیاروں کی فروخت میں کرپشن کی تحقیقات فرانسیسی جج کے حوالے

ھارت اور فرانس کے درمیان رافیل طیاروں کے متنازع معاہدے میں کرپشن الزامات کی تحقیقات فرانسیسی جج کو سونپ دی گئیں۔

 فرانس کے نیشنل فنانشل پراسیکیوٹرکے مطابق متنازع معاہدے میں کرپشن اور کِک بیکس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

خیال رہےکہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے2016 میں فرانس سے  36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تاہم اس معاہدے پر فرانسیسی میڈیا اور ایک این جی او نے الزام لگایاتھا کہ اس معاہدے کے لیے فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی نے بھارتی حکام کو رشوت دی ہے دوسری جانب  بھارت کی اپوزیشن جماعتیں بھی اس ڈیل میں بدعنوانی کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔

بھارت میں اس معاملے نے اس وقت زور پکڑا جب ستمبر 2018 میں فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کیلئے بزنس مین انیل امبانی کی دیوالیہ کمپنی کو پارٹنر بنانے کی تجویز دی تھی۔

سابق فرانسیسی صدر کے انکشافات کے بعد بھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی بھی مودی سرکار پر برس پڑے تھے،راہول گاندھی نے کہا تھا کہ انیل امبانی کی کمپنی 45 ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس کی مددکیلئے ہی نریندر مودی نے رافیل طیاروں کے معاہدے کا سہارا لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *