Friday , 25 September 2020

ڈاکٹر ماہا علی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کو گولی لگنے میں ابہام اور تضاد ختم کرنے کے لیے قبر کشائی اور میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 سینیئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) انویسٹی گیشن جنوبی بشیر احمد بروہی کے مطابق ڈیفنس میں خودکشی کے جائے وقوع کے معائنے سے شواہد ملے کہ ڈاکٹر ماہا علی کو گولی سر میں سیدھے ہاتھ سے لگی تھی۔

جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر حسان احمد نے پوسٹ مارٹم کیے بغیر ماہا علی کی موت کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی تھی۔ ایم ایل او ڈاکٹر حسان احمد کی جاری کردہ رپورٹ میں متوفیہ کو گولی الٹے ہاتھ سے لگنا ظاہر کیا گیا۔ 

پولیس حکام کے مطابق متوفیہ کے والد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ایم ایل او اور ملزمان کی ملی بھگت کا الزام عائد کیا تھا۔

میڈیکل رپورٹ اور جائے وقوع کے شواہد میں تضاد نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، میت کے پوسٹ مارٹم سے قانونی طور پر معاملہ کلیئر ہو جائے گا۔

ایس ایس پی کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار ملزمان کو مقدمہ کے ٹرائل میں میڈیکل رپورٹ سے فائدہ ہوگا، ڈاکٹر ماہا علی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے سے صحیح میڈیکل رپورٹ بنے گی۔

ایس ایس پی بشیر بروہی کا کہنا ہے کہ قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے عدالت کو لکھا جائے گا۔

عدالتی حکم پر پولیس سرجن، ایم ایل اوز اور ڈاکٹروں کی ٹیم میرپور خاص جاکر قبر کشائی کرے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔

ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ اس کے مرحومہ سے گزشتہ 4 سال سے تعلقات تھے اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔

جنید کا کہنا تھا کہ ماہا کو روز نجی اسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا، لیکن جس دن اس نے خودکشی کی اس دن ماہا نے گھر آنے سے منع کیا۔

خاتون ڈاکٹر کے دوست کا کہنا تھا کہ ماہا کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا، ماہا گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔

ڈاکٹر ماہا علی کی موت کو پولیس نے اپنی تحقیقات کی بناء پر خودکشی قرار دیا ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نے اپنے دوست جنید کے تشدد سے تنگ آکر خود کو مارا۔ 

گزشتہ روز ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے والد آصف علی شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بیٹی کو بلیک میل کیا جارہا تھا اور اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈاکٹر ماہا کے والد کا کہنا ہے کہ جنید، ڈاکٹر عرفان اور وقاص سمیت ایک منظم گروہ نے ان کی بیٹی کو پہلے نشے کی لت پر لگایا، پھر بلیک میل کیا اور دھمکیاں دیں جو میری بیٹی کی موت کی وجہ بنا۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اس لیے آواز اٹھا رہا ہوں کہ دیگر بچیاں محفوظ رہیں۔ 

ادھر عدالت نے ڈاکٹر ماہا کی خودکشی کے کیس میں نامزد ملزم عرفان قریشی کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *