Saturday , 25 January 2020

آرٹیکل 211 کے تحت جسٹس وقار سیٹھ کا باقاعدہ نفسیاتی معائنہ ہونا چاہیے، اعتزاز

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر قانون دان اعتزاز احسن کا سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے پر کہنا ہے کہ لاش کو لٹکائے جانے کی بات بیہودہ فیصلہ ہے، جسٹس وقارسیٹھ نےجوکچھ کہا ہے وہ آئینِ پاکستان کے تحت ممکن نہیں۔

جیو نیوزسے گفتگو میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ اس قسم کا فیصلہ آیا ہے، ذاتی طور پر میں سزائے موت کوقابل تحسین نہیں سمجھتا۔

پرویز مشرف کے انتقال کرجانے کی صورت میں لاش کو 3 روز تک ڈی چوک پر لٹکائے جانے کے فیصلے پر اعتزازاحسن نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی ایسا نہیں چاہے گا جو جسٹس وقار سیٹھ نے تجویز کیا ہے، اس جج سے متعلق آرٹیکل 211 کے تحت دیکھنا چاہیے کہ وہ ذہنی طور پر صحت مند بھی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 211 کے تحت اس جج کا باقاعدہ نفسیاتی معائنہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کایہ کہنادرست ہے کہ ان کےساتھ جولوگ تھے ان کابھی ٹرائل ہو، یہ فیصلہ ایک لحاظ سے مشرف کے حق میں چلا گیا ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 3 نومبر کو  تکبر کے ساتھ ججوں کو گرفتار کیا گیا، پرویز مشرف کا کردار بہت تکبرانہ تھا، پرویز مشرف نے وزیراعظم اور اس کے سارے خاندان کوگرفتار کیا۔ پرویز مشرف اپنے آپ کوقانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کایہ کہنادرست ہے کہ ان کےساتھ جولوگ تھے ان کابھی ٹرائل ہو، یہ فیصلہ ایک لحاظ سے مشرف کے حق میں چلا گیا ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 3 نومبر کو  تکبر کے ساتھ ججوں کو گرفتار کیا گیا، پرویز مشرف کا کردار بہت تکبرانہ تھا، پرویز مشرف نے وزیراعظم اور اس کے سارے خاندان کوگرفتار کیا۔ پرویز مشرف اپنے آپ کوقانون سے بالاتر سمجھتے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *